PESHAWAR: Pakistan’s opposition party Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI), founded by jailed former prime minister Imran Khan, is facing growing internal divisions following the failure of its recent protest march, with senior leaders publicly trading accusations and calls emerging for accountability and changes in the party leadership.
The differences came into the open on Wednesday when PTI Secretary General Salman Akram Raja and former Khyber Pakhtunkhwa chief minister Ali Amin Gandapur exchanged accusations over their commitment to the party.
پی ٹی آئی کے اندرونی اتفاق پر اسوقت غیر جمہوری فیصلہ سازوں کا حملہ ہے۔ بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے کہ خیبر پختونخواہ اسمبلی کے 68 ارکان ایک گروپ کے طور پر عمران خان صاحب اور پارٹی کی پولیٹیکل کمیٹی کی اجازت کے بغیر صوبائی صدر اور آئندہ وزیر اعلی کے امیدوار کا اعلان کرنے والے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اسی گروپ نے آخری دنوں میں وزیر اعلی سہیل آفریدی اور انکی ٹیم سے رابطہ منقطع کر کے سرکاری جبر، ایمرجنسی اور گورنر راج کی راہ ہموار کی۔ کسی سازشی بیانیے پر یقین نہ کیا جائے جب تک تحقیقات مکمل نہ کر لی جائیں۔ جنید اکبر صاحب خیبر پختونخواہ میں پارٹی کے بدستور صدر ہیں۔ انکا تقرر عمران خان صاحب نے خود کیا ہے۔ انکی غیر موجودگی میں صوبے کے جنرل سیکریٹری علی اصغر خان صاحب قائم مقام صدر ہیں۔ سہیل آفریدی قانون اور آئین کی رو سے آج بھی وزیر اعلی ہیں۔ وسوسہ پھیلانے والے سانپوں اور سنپولیوں کو شکست ہو گی۔ اللہ تعالی کی پناہ مانگتا ہوں انکے شر سے۔
— salman akram raja (@salmanAraja) October 21, 2026
The dispute has exposed tensions over who should lead the party in the province, how decisions should be made in Khan’s absence and what steps PTI should take after its latest protest campaign failed to achieve its objectives.
The fallout has also intensified concerns within the party over the political consequences of the march, including the imposition of governor’s rule in Khyber Pakhtunkhwa and the challenges facing Khan, who remains in jail.
Leadership Dispute
The immediate trigger was a reported meeting of around 55 PTI lawmakers from the Khyber Pakhtunkhwa Assembly on October 14, held via Zoom and WhatsApp, to discuss party organisation, negotiations with the federal government, future protests and legal matters.
علی امین گنڈاپور کا سلمان اکرم راجہ سے معافی منگوانے کا اعلان
یہ پارٹی کسی کے باپ کی نہیں تو آپ کے باپ کی بھی نہیں ہے
علی امینیہ ایک مراسی (شوکت بسرا) پالا ہوا ہے سلمان اکرم راجہ آپ نے
یہ اپنی اوقات سے بہت آگے چلا جاتا ہے
یہ کب پارٹی میں آیا ہے وہ ہمیں پتہ ہے
یہ کتنا کوئی نظریہ والا ادمی ہے ہمیں یہ بھی پتہ سیکھا
مہربانی کرے عمران خان کا ہر حکم من و عن ہم سب نے مانا ہے اور مانیں گے اور انشاءاللہ عمران خان کے حکم پر اس کی ڈائریکشن پر اس کے نظریے میں کون کتنے سالوں سے کھڑا ہے قوم جانتی ہے
تماشہ لگایا ہوا ہے یہ بند کردے
کسی کے اوپر یہ سانپ سپولے کے الزام لگانا آپ کا اختیار نہیں ہے سمجھ جاؤ اس بات کو
اگر اپ کو سمجھ نہیں آرہی تو سمجھانے کے طریقے ہیں ہمارے پاس
اگر ایک عہدہ آپ کو ہضم نہیں ہو رہا تو ہاضمے کی دوائی ہے ہمارے پاس
اپ جو یہ بلڈ پریش کے مریض بن کے الٹی پلٹی باتیں کرتے ہیں ہم آپ کو معاف کر دیتے ہیں آپ سر پہ نہ چڑیں
اپ جواب دیں جو الزام کگایا ہے بجائے اس کے کہ مراسیوں کو ہمارے پیچھے لگا دیں گے
اب یہ ہمیں بتائیں گے کہ نظریہ کیا ہوتا ہے؟ قر بانی کیا ہوتی ہے؟
آپ بتائیں آپ کا کیا نظریہ اور قربانی ہے؟
سوائے نواز شریف کی وکالت کے
ایک دن تحریک نہیں اٹھائی
یہ ہارٹی آپ کہتے ہیں کسی کے باپ کی نہیں تو آپ کے باپ کی بھی نہیں
آپ کو معافی مانگنی پڑے گی
ہم آپ سے معافی منگوائیں گے
آپ کی اب آپ کی ٹون میں جواب دے رہا ہوں
Because you deserve thisسابق وزیراعلی علی امین گنڈاپور کی مبینہ آڈیو
— Muhammad Faheem (@MeFaheem) October 21, 2026
According to a handwritten resolution seen by Dawn, the lawmakers unanimously proposed Gandapur as acting provincial party president in place of Junaid Akbar, who has been absent since governor’s rule was imposed in the province.
Raja challenged the move, arguing that provincial leadership decisions could not be made without authorisation from Imran Khan or the party’s political committee.
He also alleged that 68 lawmakers were being portrayed as a group preparing to decide the provincial president and the next chief minister independently.
Gandapur Hits Back
Gandapur rejected Raja’s allegations and demanded evidence, insisting that provincial lawmakers did not need anyone to certify their loyalty to Khan or PTI.
1/2
سلمان اکرم راجہ صاحب، آپ کا حالیہ بیان نہایت افسوس ناک، غیر ذمہ دارانہ اور پاکستان تحریک انصاف کے داخلی اتحاد کے لیے نقصان دہ ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب پارٹی غیر معمولی سیاسی مشکلات سے دوچار ہے، اپنے ہی منتخب نمائندوں کے خلاف مبہم الزامات اور تضحیک آمیز زبان استعمال کرنا کسی ذمہ دار قیادت کو زیب نہیں دیتا۔آپ نے ’’غیر جمہوری فیصلہ سازوں‘‘ اور ایک مبینہ گروپ کی سازش کا ذکر کیا ہے۔ پہلے یہ واضح کریں کہ یہ لوگ کون ہیں؟ کن اراکینِ اسمبلی پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ عمران خان اور سیاسی کمیٹی کی اجازت کے بغیر صوبائی صدر یا آئندہ وزیراعلیٰ کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں؟ اگر آپ کے پاس شواہد ہیں تو نام سامنے لائیں۔ اسی طرح یہ سنگین الزام کہ کسی گروپ نے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی اور ان کی ٹیم سے رابطہ منقطع کرکے ایمرجنسی اور گورنر راج کی راہ ہموار کی، کس بنیاد پر لگایا جا رہا ہے؟
آپ تحقیقات کی بات کرتے ہیں۔ کون سی تحقیقات، کس کے حکم پر اور کس مجاز فورم کے تحت ہو رہی ہیں؟ اگر تحقیقات جاری ہیں تو پارٹی کو ان کا علم کیوں نہیں؟ جنید اکبر ہمارے بھائی اور صوبائی صدر ہیں، جن کی جلد بازیابی کے لیے ہم دعاگو ہیں۔ اگر ان کی غیر موجودگی میں علی اصغر خان کو قائم مقام صدر مقرر کیا گیا ہے تو اس کا باضابطہ نوٹیفکیشن کہاں ہے اور یہ اختیار کس نے استعمال کیا؟
آپ شاید بھول رہے ہیں کہ خیبرپختونخوا ہمیشہ عمران خان کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ یہ وہ صوبہ ہے جہاں کے کارکنوں اور منتخب نمائندوں نے گرفتاریاں برداشت کیں، تشدد اور نو مئی کے بعد پیدا ہونے والی شدید مشکلات کا سامنا کیا، مگر اپنے قائد اور نظریے سے وابستگی نہیں چھوڑی۔ انہی لوگوں نے 2024 کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی، اپنے مینڈیٹ کا دفاع کیا اور مشکل ترین حالات میں بھی پارٹی کا پرچم بلند رکھا۔
خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی طویل سیاسی کامیابیوں اور مختلف ادوار میں اکثریت کے ساتھ حکومت سازی کے پیچھے انہی وفادار کارکنوں اور نمائندوں کی برسوں کی جدوجہد ہے۔ انہی لوگوں نے عمران خان کی کال پر بار بار اسلام آباد کی جانب مارچ کیا، تین سے زائد مرتبہ غیر معمولی خطرات اور رکاوٹوں کا سامنا کیا۔ افسوس کہ ان مشکل مواقع پر بعض مرکزی ذمہ داران کا عملی کردار اور موجودگی وہ نہیں تھی جس کی کارکن توقع رکھتے تھے۔ اس کا حساب بھی پارٹی کے سامنے آنا چاہیے۔
گزشتہ ایک سال کے دوران قیادت کے متعدد فیصلوں اور سیاسی حکمتِ عملی کے نتائج پر سنجیدہ سوالات موجود ہیں۔ ان فیصلوں کے اثرات صرف عمران خان اور جیلوں میں قید ہمارے ساتھیوں تک محدود نہیں رہے بلکہ ملک بھر کے کارکنوں نے بھی ان کی قیمت ادا کی ہے۔ آج پارٹی جس سنگین سیاسی اور تنظیمی بحران سے گزر رہی ہے، اس میں الزام تراشی کے بجائے قیادت کی کارکردگی، فیصلوں اور ذمہ داریوں کا شفاف جائزہ ضروری ہے۔
اگر خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی اپنے اندر مشاورت کرکے موجودہ بحران کا کوئی آئینی اور سیاسی حل تلاش کرنا چاہتی ہے تو چند افراد کو کس نے یہ اختیار دیا ہے کہ وہ ان منتخب نمائندوں کو غدار، سازشی یا غیر جمہوری قرار دیں؟
ایک بنیادی سوال کا جواب بھی دیجیے۔ جب قومی اسمبلی کے اراکین کے استعفوں کے معاملے پر یہ مؤقف اختیار کیا جا سکتا ہے کہ عمران خان کی واضح ہدایت کے بغیر سیاسی کمیٹی یا کور کمیٹی کا فیصلہ قبول نہیں کیا جائے گا، تو خیبرپختونخوا کے اراکینِ اسمبلی کے لیے یہی اصول کیوں نہیں؟ اگر وہ کہتے ہیں کہ عمران خان سے ملاقات اور براہِ راست رہنمائی ممکن ہونے تک صوبے کے اہم سیاسی و پارلیمانی معاملات پر اپنی پارلیمانی پارٹی کی مشاورت سے فیصلہ کریں گے، تو اس میں اعتراض کی کیا بات ہے؟ ایک ہی جماعت میں ایک ہی اصول کا اطلاق سب پر یکساں کیوں نہیں ہونا چاہیے؟
آپ گزشتہ ایک ہفتے میں دوسری مرتبہ ’’سانپوں اور سنپولیوں‘‘ جیسی اصطلاحات استعمال کر رہے ہیں۔ واضح کیجیے کہ ان الفاظ سے آپ کی مراد کون لوگ ہیں؟ اگر یہ اشارہ خیبرپختونخوا کے اراکینِ اسمبلی کی جانب ہے تو یہ ان لوگوں کی توہین ہے جنہوں نے بیس، پچیس برس عمران خان کے ساتھ سیاسی جدوجہد کی اور آج بھی تمام مشکلات کے باوجود پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں۔
یہ جماعت عمران خان کی ہے۔ ہمیں کسی سے وفاداری کے سرٹیفکیٹ درکار نہیں، اور نہ ہی کسی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ہماری سیاسی وفاداری پر فیصلے صادر کرے یا ہمیں غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹے۔ پارٹی سے وفاداری کا فیصلہ چند افراد کی پسند و ناپسند سے نہیں بلکہ برسوں کی جدوجہد، قربانیوں اور عملی کردار سے ہوتا ہے….
Continued— Ali Amin Khan Gandapur (@AliAminKhanPTI) October 21, 2026
He also questioned who had authorised an investigation into the alleged internal manoeuvring and challenged the reported appointment of Ali Asghar Khan as acting provincial president.
The exchange has brought disagreements over party authority, provincial representation and protest strategy into the open. PTI’s central leadership now faces pressure to clarify the disputed appointments and establish how allegations against its own elected representatives will be handled.
