Key Points
- Federal apex committee reviews security and governance following emergency imposition.
- Government vows to dismantle terrorist networks, facilitators and support infrastructure.
- Police and CTD to receive stronger operational support and professional training.
- Merged districts and terrorism-affected areas receive particular development emphasis.
- Federal government pledges support for healthcare, education, jobs and infrastructure.
- ARDC members reaffirm support for security forces and law enforcement agencies.
PESHAWAR, Pakistan: Pakistan’s Prime Minister Shehbaz Sharif on Thursday announced Rs160 billion in federal funding for the ‘Badalta, Nikharta, Mazboot Khyber Pakhtunkhwa’ programme, pledging a decisive push against terrorism and renewed efforts to improve governance and accelerate development in Khyber Pakhtunkhwa.
Chairing a meeting of the Federal Apex Committee in Peshawar and separately interacting with members of the Area Representative and Development Council (ARDC), the prime minister said lasting peace in the province, particularly in the merged districts, remained a shared national responsibility.
“The whole nation is indebted to and proud of the contributions and sacrifices of the people of your areas.” Prime Minister Shehbaz Sharif
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے آج گورنر ہاؤس پشاور میں نیشنل ایکشن پلان کی فیڈرل ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی اور خطاب کیا۔
وزیراعظم نے اس عزم کااظہار کیا ہے کہ وفاقی حکومت، عسکری قیادت کے ساتھ ملکر خیبر پختونخوا کے عوام کے مسائل حل کرے گی، خیبر پختونخوا میں خوشیاں ، امن اور ترقی کا دور واپس لاکر صوبہ کے عوام کی خوشحالی کے خوابوں کو عملی جامہ پہنائیں گے ۔
وزیراعظم شہباز شریف کو فیڈرل ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ خصوصی اجلاس کے دوران خیبر پختونخوا کے امن کیلئے قربانیاں دینے والے شہداء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
وزیراعظم نے خطاب میں مزید کہا کہ خیبرپختونخوا غیور اور بہادر لوگوں کا خوبصورت صوبہ ہے۔یہ رحمان بابا اور خوشحال خان خٹک کا صوبہ ہے،آزادی کے وقت اس صوبے نے بڑی اکثریت سے پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت خیبر یختونخوا دہشتگردی ، بنیادی عوامی سہولیات کی عدم دستیابی سے بہت متاثر ہے، خیبر پختونخوا کے عوام محرمیوں کا شکار ہیں،ہمیں مجبوری میں صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنا پڑا۔ اللہ سے دعا ہے کہ صوبے میں امن اور ترقی کے عمل کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کرے۔ انہوں نے پشاور سکول کی چھت گرنے کے واقعہ میں ایک استانی اور بچوں کی المناک وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گورنر خیبر پختونخوا کو کہا تھا کہ وہ متاثرہ جگہ کا فوری دورہ کر کے اس سانحے کی مکمل تحقیقات کرائیں۔
وزیراعظم نے صوبہ کی صورتحال کا ذکر کہا کہ چند برسوں میں جو حالات پیدا کر دئیے گئے اس کی وجہ سے یہ صوبہ بہت متاثر ہے۔ چھ برسوں میں جو حالات پید ا کئے گئے اُس کے بعد امن و امان کو بہت نقصان پہنچا،انہوں نے کہا کہ ہماری بہادر افواج اور سیکورٹی اداروں نے بہت قربانیاں دے کر خیبر پختونخوا سمیت پاکستان میں دہشت گردی کا قلع قمع کر دیا تھا اور دو ہزار اٹھارہ تک اس صوبے میں مکمل امن قائم ہو گیا تھا۔ یہ امن سیکورٹی اداروں سمیت ہماری ما ئوں، بہنوں اور بچوں کی قربانیوں کے نتیجے میں قائم ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80ہزار لوگ شہید ہوئے اور کئی سو ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے کئی سیاسی خاندانوں نے دہشت گردی کے خلاف بہت قربانیاں دیں، کئی گھراجڑ گئے، عظیم قربانیوں کے نتیجے میں مکمل امن قائم ہوا تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ قیام امن کے بعد پی ٹی آئی دور میں دہشت گردوں کو دوبارہ بلایا گیا اور تمام قربانیوں پر پانی پھیر دیا گیا ، جس کا خمیازہ صوبے کے عوام کو بھگتنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ قوم کے بچوں کے مستقبل کی خاطر ہماری سیکورٹی فورسز کے ہزاروں جوانوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔ ان قربانیوں کا احساس اور احترام نہ کرنے سے بڑی ملک دشمنی کوئی اور نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی دور میں خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت ، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئے گئے، اس سے بڑی مجرمانہ غفلت اور بے حسی کی مثال اور نہیں ہو سکتی۔ اسی وجہ سے حالیہ چند برسوں میں دہشت گردی میں پھر اضافہ ہوا۔ وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ صوبائی حکومت کے دور میں پولیس کی پانچ ہزار آسامیوں پر بھرتی نہیں کی گئی، خیبر پختونخوا میں سیف سٹی منصوبہ ابھی بھی نامکمل ہے، انسداد دہشت گردی محکمے اور پولیس کی تربیت پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ میں تمام صوبوں نے ملکر خیبر پختونخوا کی مدد کا فیصلہ کیا، تمام صوبوں نے انسداد دہشت گردی کے لئے خیبر پختونخوا کو وسائل فراہم کرنے پر اتفاق کیا۔صوبوں نے مل کر فیصلہ کیا کہ خیبر پختونخوا دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن ہے، تمام وزراء اعلی نے فیصلہ کیا کہ وفاق اور صوبوں کے حصے کے فنڈز میں سے ایک فیصد اضافی خیبر پختونخوا کو دئیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ 2010 کے بعد سے خیبر پختونخوا کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت انسداد دہشت گردی کی مد میں آٹھ سو ارب روپے دئیے گئے۔ افسوس کا مقام ہےکہ دہشت گردی ختم ہونے کی بجائے مزید ابھر کر سامنے آ گئی۔ خیبر پختونخوا میں سیکورٹی فورسز کو تربیت اور جدید اسلحہ اور دیگر آلات نہیں دئیے گئے۔ خیبر پختونخوا سے متعلق یہ انتہائی تکلیف دہ داستان ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کے وزرائے اعلی کو یقین دلایا تھا کہ انسداد دہشت کے لئے آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، گذشتہ ڈھائی سال میں ملکی معیشت کو بحال کرنے کے لئے دن رات محنت کی گئی، سیاسی اور عسکری قیادت کی دن رات کوششوں سے ملکی معیشت مستحکم ہو چکی ہے، دوستوں کے ساتھ اغیار بھی اقرار کرتے ہیں کہ پاکستان نے معیشت بحال کی.
1/2
— Prime Minister’s Office (@PakPMO) October 22, 2026
“The whole nation is indebted to and proud of the contributions and sacrifices of the people of your areas,” the prime minister said, according to a statement issued by the Prime Minister’s Office.
“Now is the time for a final and decisive effort to finish off the menace of terrorism, once and for all. Failure is not an option,” he added.
Security and governance review
The Federal Apex Committee undertook a comprehensive review of the situation in Khyber Pakhtunkhwa following the imposition of emergency and Governor’s Rule in the province, according to the official statement.
The meeting reviewed provincial affairs, focusing on governance reforms, institutional accountability, transparency and improved service delivery in departments directly affecting public welfare.
2/2
وزیراعظم نے سوال کیا کہ کیا ہم خیبرپختونخوا کو مزیدجلتے ہوئے دیکھتے رہتے؟ ہم نے سیاسی کمیٹی بنائی انھوں نے اڑتالیس گھنٹے تک مذاکرات میں بہت محنت کی، کب تک ہم خیبر پختونخوا میں خون ریزی برداشت کرتے رہتے؟وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے خیبر پختونخوا کے انتہائی خراب حالات پر صدر مملکت سے دو بار مشاورت کی۔ انہی وجوہات کی بناء پر خیبر پختونخوا میں سخت فیصلے کرنے پڑے۔
وزیراعظم نے کہا کہ مشاورتی کونسل وجود میں آ چکی ہے جس میں مختلف شعبوں کے ماہرین شامل ہیں، مشاورتی کونسل میں قابل اور ایماندار لوگ شامل ہیں۔ تیرہ سال سے صوبے کے عوام ترسے ہوئے ہیں کہ ان کے مسائل حل ہوں، خیبر پختونخوا کے عوام چاہتے ہیں کہ انھیں بھی بنیادی سہولتیں انکی دہلیز پر میسر ہوں، اس تبدیلی کے مثبت نتائج حاصل کرنا لازمی ہے۔ اللہ کی مدد اور آپ سب کے تعاون سے سیکورٹی سمیت مجموعی حالات بہتر ہونگے۔
وزیراعظم نےخیبر پختونخوا میں کرپشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جس پارٹی نے کرپشن کے خاتمے کے نام پر ووٹ لئے وہ خود کرپشن میں ڈوبی ہوئی ہے، خیبر پختونخوا میں کرپشن کی نت نئی کہانیاں سامنے آئیں، خیبر پختونخوا میں پینے کے صاف پانی منصوبے میں ایک سو ارب روپے کی کرپشن ہوئی، کوہستان میگا سیکنڈل میں 37 ارب کی کرپشن سامنے آئی، پلیسر گولڈ پراجیکٹ میں من پسند افراد کو ٹھیکے دئیے گئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں جو قدم اٹھایا گیا ،قانون و آئین اِس فیصلے کا اختیار دیتا ہے۔
وزیر اعظم نے خیبر پختونخوا سے متعلق فیصلے پر تمام حلیف جماعتوں ، صدر آصف علی زرداری اور قائد نواز شریف کا خصوصا شکریہ ادا کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ وعدہ کرتا ہوں کہ وفاقی حکومت ، عسکری قیادت کے ساتھ ملکر خیبر پختونخوا کے عوام کے مسائل حل کرے گی، خیبر پختونخوا میں خوشیاں ، امن اور ترقی کا دور واپس لائیں گے، خیبر پختونخوا کے عوام کی خوشحالی کے خوابوں کو عملی جامہ پہنائیں گے۔اس سے قبل گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن و امان کا قیام ہماری اولین ترجیح ہے اور خیبر پختونخوا کے عوام امن چاہتے ہیں، فوج، ایف سی اور پولیس نے خیبر پختونخوا میں امن وامان کے قیام کیلئے قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، خیبر پختونخوا میں پائیدار امن و استحکام کے لیے وفاق کا تعاون ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام ادارے اگر ایک صفحے پر ہوں تو امن و ترقی کا عمل نہیں روکا جا سکتا، صوبے سے دہشت گردوں، ان کےسہولتکاروں اور مالی معاونت کاروں کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں مسائل کے حل کیلئے قابلِ عمل حکمتِ عملی وضع کرنا ہمارا مقصد ہے، خیبر پختونخوا میں امن و استحکام کے لیے وفاق کے تعاون کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں ایسا ماحول چاہتے ہیں جہاں ہر شہری خود کو محفوظ اور ترقی کے عمل کا حصہ سمجھے، خیبر پختونخوا کو امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کا مثالی صوبہ بنانا ہے، عوامی تحفظ اور خوشحالی کیلئے وفاق اور صوبے کے درمیان تعاون ضروری ہے۔
نیشنل ایکشن پلان کی فیڈرل ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وزیر داخلہ سید محسن نقوی، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر برائے گلگت بلتستان و آزاد جموں و کشمیر امور انجینئیر امیر مقام، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر پاور سردار اویس لغاری، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ، اعلیٰ عسکری قیادت اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔
— Prime Minister’s Office (@PakPMO) October 22, 2026
The committee called for urgent, results-oriented measures to address longstanding governance challenges and improve the lives of people across the province, particularly residents of the merged districts and other areas affected by terrorism.
The forum stressed that development efforts must extend across Khyber Pakhtunkhwa, with particular attention to underserved areas where insecurity and institutional weaknesses have complicated access to public services and economic opportunities.
Final push against terrorism
The committee reaffirmed the state’s resolve to eliminate terrorism in all its forms and dismantle terrorist networks, their facilitators and support infrastructure. It described counterterrorism as a collective national responsibility requiring sustained coordination among state institutions, effective intelligence-sharing and robust security measures.
The forum also stressed that the gains achieved through the sacrifices of the public, martyrs and personnel of the security forces and law enforcement agencies must be consolidated.
At the ARDC meeting, the prime minister reiterated that the sacrifices of people in Khyber Pakhtunkhwa, particularly those living in the merged districts, would not go in vain.
The council members also reaffirmed their commitment to defeating terrorism, eliminating its roots and establishing enduring peace. They expressed continued support for the security forces and law enforcement agencies. The forum paid tribute to the sacrifices of the shuhada in the fight against terrorism.
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے آج گورنر ہاؤس پشاور میں قبائلی اضلاع کے نمائندوں پر مشتمل ترقیاتی کونسل اور مشران کے اجلاس سے خطاب کیا۔
وزیراعظم نے خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں کےلیے 160 ارب روپے فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کے وسائل کا ایک ایک پیسہ ترقی اور خوشحالی پر خرچ کیا جائے گا، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کےلیے رکاوٹیں فوری دور کی جائیں گی،قبائلی عمائدین نے ہمیشہ ڈنکے کی چوٹ پر پاکستان کا ساتھ دیا ہے، دہشتگردی کے خلاف قبائلی عوام نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ قبائلی عوام نے گہرے زخم برداشت کئے مگر پاکستان سے وابستگی میں کبھی کمی نہیں آئی۔ قبائلی عمائدین کی قربانیوں اور پاکستان سے والہانہ وابستگی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں، سیکورٹی، پولیس کی تربیت اور انتظامی امور پر تفصیلی اجلاس ہوا۔ صوبے میں ترقیاتی کاموں اور سیکورٹی کو فل پروف بنانے کےلیے اہم فیصلے کئے گئے۔ انہوں نے خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں کےلیے 160 ارب روپے فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ صوبے میں گندم کی قلت دور کرنے کےلیے وفاق ہر ممکن تعاون کرے گا، گندم کی ذخیرہ اندوزی نہیں ہونی چاہیے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ وفاق کی فراہم کردہ قیمت پر عام آدمی کو گندم کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ محکمہ انسداد دہشتگردی کو موثر بنانے کےلیے اقدامات کی ہدایت کی ہے، خیبر پختونخوا میں سیف سٹی منصوبے مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے، دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کےلیے وفاقی تمام ضروری وسائل فراہم کرے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کےلیے رکاوٹیں فوری دور کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں 13 سال کے دوران سیکورٹی آپریشنز اور پولیس کی کارکردگی میں خامیاں سامنے آئیں۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ چوری اور ڈکیتی کے واقعات پر فوری کارروائی اور ملزمان کی گرفتاری یقینی بنائی جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پچھلی حکومت میں پینے کے پانی کے منصوبوں میں 100 ارب روپے کا مبینہ سکینڈل سامنے آیا ہے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر کوہستان میں 37 ارب روپے کی مبینہ فراڈ کا بھی حوالہ دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ عوام کے وسائل کا ایک ایک پیسہ ترقی اور خوشحالی پر خرچ کیا جائے گا، صوبے کے وسائل کی مبینہ لوٹ مار پر قابو پایا جائے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ 40 منتخب ارکان پر مشتمل قبائلی کونسل کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، قبائلی کونسل کو مکمل طور پر بااختیار بنایا جائے گا، قبائلی علاقوں میں ترقیاتی امور اور انصاف کی فراہمی کےلیے بھرپور معاونت کریں گے، قبائلی عوام کے حقوق کے تحفظ کےلیے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے، قبائلی عوام کی ترقی اور خوشحالی کےلیے دن رات محنت کریں گے۔ اس موقع پر قبائلی عمائدین اور مشران نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی صورتحال پر خصوصی توجہ دینے پر وزیراعظم کے مشکور ہیں۔ قبائلی عمائدین نے کہا کہ مسائل کے حل میں بھر پور تعاون کریں گے۔اس موقع پر چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی کابینہ کے اراکین بھی موجود تھے۔
— Prime Minister’s Office (@PakPMO) October 22, 2026
Police capacity and coordination
The apex committee discussed measures to strengthen the operational capacity of the Khyber Pakhtunkhwa Police, Counter Terrorism Department (CTD) and other law-enforcement agencies.
The proposed areas of support include professional training, modern equipment, infrastructure, improved intelligence capabilities and closer coordination among agencies.
The committee said a professional and well-equipped law enforcement apparatus was essential to maintaining law and order, protecting citizens and ensuring the writ of the state throughout the province.
The forum underscored the need for all relevant institutions to work together to translate counterterrorism gains into lasting security and tangible improvements in people’s lives.
Development and public welfare
Sharif reaffirmed the federal government’s commitment to extending all possible assistance to the people of Khyber Pakhtunkhwa. He said restoring lasting peace, safeguarding lives and property, strengthening governance and accelerating socioeconomic development remained national priorities.
The prime minister also pledged continued federal support for initiatives aimed at improving public welfare, creating economic opportunities and addressing the legitimate concerns of the people.
The committee emphasised the importance of collective national ownership, community engagement and coordinated institutional action to create conditions conducive to education, healthcare, employment, investment and infrastructure development.
ARDC stresses lasting peace
During his interaction with the Area Representative and Development Council, the prime minister stressed that sustainable peace and security were indispensable prerequisites for development, economic progress and an improved quality of life. The ARDC members reiterated their resolve to support efforts to defeat terrorism and establish lasting stability.
The prime minister said the nation’s strength lay in unity and a collective rejection of violence, extremism and attempts to undermine peace. He maintained that intimidation and violence would not weaken the determination of the state and people to secure a peaceful, prosperous and progressive future for Khyber Pakhtunkhwa.
The forum said counterterrorism gains must be translated into better public services, economic opportunities and a secure future for the region.
Senior officials attend
The meetings were attended by Deputy Prime Minister and Foreign Minister Ishaq Dar, Chief of Army Staff and Chief of Defence Forces Field Marshal Syed Asim Munir, Khyber Pakhtunkhwa Governor Faisal Karim Kundi and Interior Minister Mohsin Naqvi.
Other participants included Federal Ministers Ahad Khan Cheema, Muhammad Aurangzeb, Attaullah Tarar, Amir Muqam, Azam Nazir Tarar, Ali Pervaiz Malik, Sardar Awais Ahmed Khan Laghari and Ahsan Iqbal, as well as the Prime Minister’s Adviser Rana Sanaullah Khan.
Members of the Advisory Council and ARDC, the Peshawar Corps commander and senior civil and military officials also attended.
